Free Download Islam eBooks In Urdu
قرآن فاؤنڈیشن اپنے متنوع قارئین کی ضروریات کو مدِنظر رکھتے ہوئے یہ بات بخوبی جانتی ہے کہ اگرچہ بہت سے افراد وضاحت اور آسان فہم انداز کی وجہ سے انگریزی کو ترجیح دیتے ہیں، تاہم اسلامی لٹریچر کے لیے اُردو بھی بے حد مقبول اور پسندیدہ زبان ہے۔ اسی لیے ہم نے اپنے اُردو داں قارئین کے لیے اُردو ای بکس کا ایک خصوصی انتخاب فراہم کیا ہے۔ بس ہماری ویب سائٹ کے اُردو ای بکس سیکشن پر جائیں اور بلا معاوضہ علم و معرفت کے وسیع خزانے سے استفادہ کریں۔
اسلامی تعلیمات کو ہر فرد کے لیے آسانی سے قابلِ رسائی بنانا ہمارا مشن ہے، تاکہ علمِ دین حاصل کرنا ہر ایک کے لیے سہل اور خوشگوار تجربہ بن جائے۔ صرف ایک کلک کے ذریعے آپ شریعت کے احکام و مسائل، اسلامی تعلیمات اور آخرت کی حقیقت و احوال جیسے اہم موضوعات پر مبنی اُردو ای بکس مفت ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں۔
قرآن فاؤنڈیشن نے اسلام سیکھنے کے عمل کو نہایت آسان بنا دیا ہے تاکہ ہر شخص اس سے فائدہ اٹھا سکے۔ اب اسلامی ای بکس کا مفت اُردو ورژن صرف ایک کلک کی دوری پر ہے۔ اسلام میں شریعت کی آزادیوں اور پابندیوں، نیز آخرت کی تفصیلی وضاحت پر مشتمل کتابیں اُردو میں دستیاب ہیں۔ مزید اسلامی علم حاصل کرنے کے لیے ڈاؤن لوڈ بٹن پر کلک کریں اور اپنی دینی معلومات میں اضافہ کریں۔
جلد دوئم (حصہ اول)
قرآن مجید میں جدید عہدنامے کے انبیاء
اس سلسلے کی دوسری جلد میں قرآنِ مجید کی وہ تمام آیات یکجا کی گئی ہیں جن میں حضرت محمد ﷺ سے پہلے تشریف لانے والے انبیائے کرام کا ذکر آیا ہے، جن میں عہدِ قدیم (Old Testament) اور عہدِ جدید (New Testament) کے انبیاء بھی شامل ہیں۔
حضرت محمد ﷺ اسلام کے بانی نہیں تھے، نہ ہی آپ ﷺ نے کوئی نیا مذہب پیش کیا۔ قرآنِ مجید کے بیشتر واقعات میں اس حقیقت پر زور دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور وحی کا سلسلہ انسانیت کی اخلاقی و روحانی رہنمائی کے لیے ہمیشہ جاری رہا۔ تمام انبیائے کرام نے ایک ہی بنیادی پیغام، یعنی اللہ تعالیٰ کی توحید، اس کی عبادت اور نیک و صالح زندگی کی دعوت دی۔
جلد دوئم (حصہ دوئم)
قرآن مجید میں جدید عہدنامے کے انبیاء
اس سلسلے کی دوسری جلد میں قرآنِ مجید کی وہ تمام آیات یکجا کی گئی ہیں جن میں حضرت محمد ﷺ سے پہلے تشریف لانے والے انبیائے کرام کا ذکر آیا ہے، جن میں عہدِ قدیم (Old Testament) اور عہدِ جدید (New Testament) کے انبیاء بھی شامل ہیں۔
حضرت محمد ﷺ اسلام کے بانی نہیں تھے، نہ ہی آپ ﷺ نے کوئی نیا مذہب پیش کیا۔ قرآنِ مجید کے بیشتر واقعات میں اس حقیقت پر زور دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور وحی کا سلسلہ انسانیت کی اخلاقی و روحانی رہنمائی کے لیے ہمیشہ جاری رہا۔ تمام انبیائے کرام نے ایک ہی بنیادی پیغام، یعنی اللہ تعالیٰ کی توحید، اس کی عبادت اور نیک و صالح زندگی کی دعوت دی۔
جلد ششم
قرآن حکیم میں شرعی آزادیاں و پابندیاں
یہ کتاب اسلامی قانون، شریعت اور اس کے بنیادی اصولوں کا جامع اور مفصل جائزہ پیش کرتی ہے۔ اس میں شریعت (جو اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ، قطعی اور غیر متبدل ہدایت ہے) اور فقہ (جو انسانی فہم و اجتہاد پر مبنی ہے اور حالات کے مطابق اس میں اختلافِ رائے اور تبدیلی کی گنجائش موجود ہے) کے درمیان واضح فرق بیان کیا گیا ہے۔
کتاب میں آزادی اور اس کی حدود جیسے اہم موضوعات پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے، جن میں تقدیر اور اختیار، مذہبی آزادی، آزادیِ فکر اور آزادیِ اظہار شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، انفرادی حقوق جیسے رازداری کا تحفظ، بہتان اور تہمت سے حفاظت، غلامی کا خاتمہ اور نسلی مساوات پر بھی مدلل گفتگو کی گئی ہے۔ خاندانی قوانین کے ضمن میں نکاح، طلاق، مرد و عورت کے حقوق و ذمہ داریوں اور خاندانی منصوبہ بندی جیسے اہم مسائل کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔
جلد ہفتم
آخرت کی زندگی کی تفصیلات
یہ جلد آخرت سے متعلق بنیادی عقائد اور اہم مراحل پر جامع روشنی ڈالتی ہے، جن میں موت، قیامتِ کبریٰ، دوبارہ زندہ کیے جانے (حشر)، یومِ حساب، جہنم اور جنت شامل ہیں۔
موت اختتام نہیں بلکہ روح کے ایک نئے سفر کا آغاز ہے۔ یہ وہ مرحلہ ہے جہاں روح جسمانی حدود سے آزاد ہو کر ابدی زندگی کے عالم میں داخل ہوتی ہے۔ قرآنِ مجید واضح کرتا ہے کہ دنیا کی زندگی اور آخرت کی زندگی دراصل ایک ہی مسلسل وجود کے دو مختلف مراحل ہیں۔ موت کے وقت فرشتے اللہ تعالیٰ کے حکم سے روح قبض کرتے ہیں، اور کوئی شخص اس اٹل حقیقت سے بچ نہیں سکتا۔
قیامتِ کبریٰ دنیا کے خاتمے کی علامت ہے، لیکن یہ کائنات کی مکمل فنا نہیں بلکہ اس کے موجودہ نظام کی ایک عظیم اور ہولناک تبدیلی ہے۔ اس دن تمام جاندار فنا ہو جائیں گے، اور صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہمیشہ باقی رہے گی، جو ہر چیز پر کامل اقتدار رکھتی ہے۔
یومِ حشر یا یومِ قیامت وہ دن ہے جب تمام انسان دوبارہ زندہ کیے جائیں گے اور اپنے اعمال کے حساب کے لیے اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہوں گے۔ قرآنِ مجید اس حقیقت پر زور دیتا ہے کہ انسانوں کو دوبارہ پیدا کرنا اللہ تعالیٰ کے لیے اسی طرح آسان ہے جیسے پہلی بار پیدا کرنا۔دوبارہ زندہ کیے جانے کے بعد تمام انسان میدانِ حشر میں جمع ہوں گے، جہاں ان کے ایمان، اعمال اور کردار کی بنیاد پر ان کا حساب لیا جائے گا۔ اس کے بعد انسانوں کو ان کے اعمال کے مطابق تین بنیادی گروہوں میں تقسیم کیا جائے گا، اور ہر شخص کو کامل عدل و انصاف کے ساتھ اس کا انجام عطا کیا جائے گا۔

